بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1552 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا مہر ادا کرتے وقت گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماے کرام مفتیان عظام اس مسئلے میں زید اپنی بیوی کا مھر ادا کرنا چاہتا ہے کس طرح ادا کرے گواہ اور وکیل کا انتقال ہوچکا۔ قرآن و حدیث کی ورشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ الجواب سائل غالبا یہ سمجھتا ہے کہ جس وقت شوہر بیوی کو مہر ادا کرے تو اس وقت نکاح کے وکیل اور اس کے گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔بلکہ حقیقتِ امر یہ ہے کہ مہر کی ادائیگی کے وقت سرے سے گواہوں کا ہونا ہی ضروری نہیں ہے۔ہاں! گواہ بنا کر ہو تو اچھا ہے۔اور نکاح میں بھی جو از روئے شرع گواہی شرط رکھی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عقد کے ذریعہ اشرف المخلوقات یعنی انسان (عورت) کے بدن سے نفع اٹھانے کے مالکانہ حقوق و اختیارات حاصل ہوتے ہیں، مال یعنی مہر کے لزوم کے اعتبار سے نکاح میں شہادت کو شرط کا درجہ نہیں دیا گیا ہے، کیوں کہ لزوم مال سے متعلق امور و معاملات مثلاً خرید و فروخت، اجارہ، شرکت ، قرض، مضاربت وغیرہ میں گواہی شرط نہیں ہے۔شیخ الاسلام امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "ان الشہادة شرطت فی النکاح علی اعتبار اثبات الملک لورودہ علی محل ذی خطر، لا علی اعتبار وجوب المھر؛ اذ لا شہادة تشترط فی لزوم المال۔” (ہدایہ اولین، کتاب النکاح ص٢٨٧) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ