دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2587
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا مور کھانا حلال ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,063
سوال (Question):
کیا مور کھانا حلال ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا مور کھانا حلال ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں! مور کھانا حلال ہے. چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : “ولابأس باکل الطاؤوس وعن الشعبی یکرہ اشد الکراھۃ وبالاول یفتی کذا فی الفتاویٰ الحامدیہ ” یعنی مور کھانے میں حرج نہیں ہے اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ مور کھانے کو بہت سخت مکروہ قرار دیتے تھے اور پہلے قول پر (مور کے حلال ہونےپر) فتویٰ دیا جاتا ہے ایسے ہی فتاوی حامدیہ میں ہے. (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 358 قدیمی کتب خانہ کراچی ) اسی طرح میزان الشعرانی اور فتاوی برہنہ میں بھی مور کھانے کو حلال لکھا گیا ہے. واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat