دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1945
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,693
سوال (Question):
کیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں رمضان میں مغرب کی اذان کے دس منٹ بعد افطار اور کھانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیا مغرب کی اذان کے بعد اتنی تاخیر جائز ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ نماز مغرب میں دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور بغیر عذر اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی ہے. سفر میں ہو یا بھوکا ہو اور اگر کھانا سامنے حاضر ہو تو یہ تاخیر کے لئے عذر ہے. در مختار میں ہے” واخر المغرب الی اشتباک النجوم) ای کثرتھا (کرہ) ای التاخیر لاالفعل لانہ مامور بہ (تحریما) الا بعذر کسفر وکونہ علی اکل ١ھ. رد المحتار میں ہے ” وان مافی القنیۃ من اشتباک النجوم مکروہ تنزیھا وما بعدہ تحریما الا بعذر ١ھ ”(ص ٣٦٩ ج ١ ) ایسا ہی بہار شریعت صفحہ 20 جلد 3 میں بھی ہے تاہم دس منٹ سے زیادہ تاخیر سے گریز کرنا چاہئے. واللہ تعالیٰ اعلم. الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد ابو بکر مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat