بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2228 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟
زیدنے ہندہ سے کہا تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور یہ بات زید نے ہندہ سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دلائی کہ تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھائی کہ بکر سے ہرگز کلام نہیں کروں گی ۔ اس کے باوجود ہندہ نے بکر سے کلام کرنا شروع کر دیا۔ کیا اس صورت میں ہندہ پر کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ ” ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی” اس جملے میں قسم سے سائل کی مراد کیا ہے ۔ اگر وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے کو قسم سمجھتا ہے اور اسی کو قسم کہتا ہے تو غلط ہے شرعا وہ قسم نہیں لہٰذا نہ قسم ٹوٹی اور نہ اس کا کفارہ واجب ہوا ” اس زمانے میں تعلیم یا حلف کی صورت بہت زیادہ مشہور ہے کہ قرآن مجید ہاتھ میں دے کر کچھ الفاظ کہلواتے ہیں ، مثلا اسے قرآن پاک کی مار پڑے ، ایمان پر خاتمہ نصیب نہ ہو ، شفاعت نصیب نہ ہو ، یہ سب باتیں خلاف شرع ہیں ، مصحف شریف ہاتھ میں اٹھانا حلف شرعی نہیں ” ( بہار شریعت حصہ ١٣، ص/٩١، ۲۰ حلف کا بیان) اور اگر قسم سے سائل کی مراد کچھ اور ہے تو الفاظ قسم صاحب صاف لکھ کر حکم دریافت کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ