بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1923 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا خوف اور ڈر سے منی نکلنے پر غسل واجب ہوگا؟ کیا غسل کے فرائض غسل سنت میں بھی فرض ہیں؟
سوال : خوف اور ڈر کے وقت جو منی نکلے اس سے غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ (٢) غسل میں جو تین فرض ہیں کیا وہ غسل سنت میں بھی فرض ہیں ؟بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ منی نکلنے سے غسل اس وقت واجب ہوتا ہے جب کہ وہ اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو. ایسا ہی بہار شریعت جلد دوم صفحہ 48 پر ہے. اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ١٤ پر ہے ” الموجبۃ للغسل خروج المنی علی وجہ الدفق والشھوۃ ١ھ. اور خوف وڈر سے جو منی نکلتی ہے وہ بے شہوت ہوتی ہے لہذا اس سے غسل واجب نہیں ہو گا ہاں وضو جاتا رہے گا. واللہ تعالی اعلم (٢) غسل کے فرائض صرف غسل فرض میں فرض ہیں اور وہ غسل سنت میں سنت ہو جاتے ہیں. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی عبد المقتدر نظامی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ