صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2204 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیا عورتوں کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے؟ / نماز کے مسائل

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 7,808

سوال (Question):

کیا عورتوں کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے؟ / نماز کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا عورتوں کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے؟

سوال : کیا عورتوں کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے؟ اکثر عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ فرض اور واجب سب نمازیں بیٹھ کر پڑھتی ہیں ۔ تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ فرض، وتر ،عیدین اور سنت فجر میں قیام فرض ہے یعنی بلا عذر صحیح یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھی گئیں تو نہ ہوں گی. بحر الرائق صفحہ 292 جلد اول میں ہے ” وھو فرض فی الصلاۃ للقادر علیہ گی الفرض وما ھو ملحق بہ ” ۔ اور فتاویٰ عالمگیری صفحہ 64 جلد اول میں ہے وھو فرض فی صلاۃ الفرض والوتر ھکذا فی الجوہرۃ النیرۃ والسراج الوھاج ١ ھ اور شامی جلد اول صفحہ 299 میں ہے وسنۃ الفجر لا تجوز قاعدا من غیر عذر باجماعھم کما ھو روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ کما صرح بہ فی الخلاصۃ ١ھ اور بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 69 میں غنیہ سے ہے ” اگر عصا یا خادم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہے تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھے اگر کچھ دیر بھی کھڑا ہو سکتا ہے اگرچہ اتنا ہی کہ کھڑا ہو کر اللہ اکبر کہہ لے تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بیٹھ جائے. ١ھ اور فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 92 میں تنویر الابصار و در مختار سے ہے ۔ ان قدر على بعض القيام ولو متكئا على عصااو حائط قام لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آيۃ او تکبیرۃ على المذهب ١ھ اور یہ سب مردوں کے لئے خاص نہیں ہے یعنی جس طرح نماز میں قیام مردوں کے لیے فرض ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی فرض ہے . لہذا فرض، واجب تمام نمازیں جن میں قیام ضروری ہے بغیر عذر صحیح بیٹھ کر نہیں ہو سکتی . جتنی نمازیں باوجود قدرت قیام بیٹھ کر پڑھی گئیں ان سب کی قضا پڑھنا اور توبہ کرنا فرض ہے . اگر قضا نہیں کریں گی اور توبہ نہیں کریں گی تو سخت گناہ گار مستحق عذاب نار ہوں گی . ہاں نفل نماز بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہیں ۔ مگر کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے ۔ اس لئے کہ کھڑے ہو کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے سے دوگنا ثواب ہے ۔ اور وتر کے بعد جو دو رکعت پڑھی جاتی ہے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے ۔ ھکذا فی بھار شریعت واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 241

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat