بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2732 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا صرف عورتیں جماعت سے نماز پڑھ سکتی ہیں محمد محفوظ عالم رضوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی مکان پر صرف عورتیں جماعت سے نماز پڑھنا چاہے تو کیا صرف عورتیں جماعت سے نماز ادا کر سکتی ہیں عبارات فقہا کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔ المستفتی: محمد محسن رضا اسمعیلی امرڈوبھا کبیر نگر یوپی باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب ۔ عورتیں جماعت نہیں کر سکتی ہیں ان کے لئے جماعت کی حاضری ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "یکرہ امامۃ المرأۃ للنساء فی الصلوات کلھا من الفرائض والنوافل الا فی الصلوۃ الجنازۃ ھکذا فی النھایۃ ” (فتاوی عالمگیری جلد اور مصری ص :80) درمختار میں ہے "یکرہ تحریما جماعۃ النساء ولو فی التراویح” حضور صدرالشریعہ علامہ حکیم امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :”عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں ۔ دن کی نماز ہو یا رات کی ,جمعہ ہو یا عیدین ,خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھیاں ” (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم ص:584) حضور فقیہ ملت علامہ جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :”اگر صرف عورتیں جماعت کریں تو یہ بھی ناجائز ، اس لئے کہ صرف عورتوں کی جماعت ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ” (فتاوی فیض الرسول جلد اول ص: 401) واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم ۔کتبہ :محمد محفوظ عالم رضوی علیمی کولکاتا
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ