لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا شیعہ کے ہاتھوں سے بنا ہوا کھانا ہم کھا سکتے ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا شیعہ کے ہاتھوں سے بنا ہوا کھانا ہم کھا سکتے ہے؟

سوال(1) کیا شیعہ کے ہاتھوں سے بنا ہوا کھانا ہم کھا سکتے ہے؟ سوال (2) محرم الحرام میں گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی محمد کامران قادری عطاری ،پونچھ،جموں وکشمیر باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهابـــــــــــــــــ (۱ )شیعہ کے ہاتھوں سے بنا ہوا کھانا کسی مسلمان کے لئے کھانا جائز نہیں ۔ اسی طرح شیعوں کے ساتھ میل جول اور ہر وہ امر جو مودت ومحبت پر دلالت کرے رکھنا جائز نہیں ۔ اعلحضرت امام اہلسنت رحمه اللہ سے ایک استفتا ہواکہ”کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس بارے میں کہ آیا شیعوں کے ہمراہ ان کے مکان پر تیار شدہ کھانا کھانا درست ہے یا نہیں ؟ "آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں رقمطراز ہیں” روافض کے ساتھ کھانا کھانا ان کی تقریبات سرور میں دوستانہ شریک ہونا اور جو امور ولاء ووداد و محبت پر دلالت کریں ان سے احتراز واجتناب کی نسبت احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وافرہ متظافرہ وارد ہیں” (فتاوی رضویہ ج۹ ص ۱۷۶ نصف اول) نیز فرماتے ہیں” آجکل کے رافضی عموما مرتد ہیں ان کے یہاں کا کھانا یا ان کے ساتھ کھانا یا ان سے کسی قسم کا میل جول رکھنا گناہ ہے” (حوالہ سابق ص ۲۲۰) (۲) گوشت کھانا ہر مہینہ میں جائز ہے کسی میں ناجائز نہیں ۔ محرم الحرام میں گوشت کھانے کو ناجائز کہنا یہ روافض کی بدعت قبیحہ ہے ۔ مسلمانوں کو روافض کی بدعات شنیعہ سے بچنا لازم ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے” یوہیں جبکہ اس سے مقصود غم پروری وتصنع حزن ہو تو یہ نیت بھی شرعا نا محمود ۔ شرع مطہر نے غم میں صبر وتسلیم اور غم موجود کو حتی المقدور دل سے دور کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم بتکلف و زور لانا نہ کہ بتصنع و زور بنانا نہ کہ اسے باعث قربت وثواب ٹھہرانا ۔ یہ سب بدعات شنیعہ روافض ہیں جن سے سنی کو احتراز لازم” (ج۹ ص ۶۲ نصف اول) والله تعالى اعلم بالصواب کتبہ : محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ،پلانگڑ،تھنہ منڈی،راجوری،جموں وکشمیر ۱۴/محرم الحرام ۱۴۴۲ ھ۔ الجواب صحيح فاروق حسين مصباحى،خطیب مرکزی جامع مسجد،پونچھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات