لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا شوہر بیوی کو خون دے سکتا ہے / کیا بیوی شوہر کو خون دے سکتی ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا شوہر بیوی کو خون دے سکتا ہے ؟

سوال : کیا شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو خون دے سکتے ہیںن اور کیا بلڈ بینک سے خون لیا جا سکتا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں دے سکتے ہیں ، شوہر کے بدن میں بیوی کا خون اور بیوی کے بدن میں شوہر کا خون چڑھانا جائز ہے، اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان کوئی حرمت نہیں پیدا ہوگی ۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال رہیں گے ۔  بلڈ بینک سے خون لیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات