لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا شرعی مسافر کو نماز میں قصر کرنا ضروری ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا شرعی مسافر کو نماز میں قصر کرنا ضروری ہے ؟

سوال : کیا شرعی مسافر کو نماز میں قصر کرنا جائز ہے کہ چار رکعت والی فرض نماز کو دو رکعت پڑھ سکتا ہے اور چار بھی یا دو ہی رکعت پڑھنا ضروری ہے کہ چار پڑھے گا تو گنہگار ہوگا؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ شرعی مسافر کو نماز میں قصر کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے یعنی چار رکعت والی نماز کو دو ہی رکعت پڑھنا ضروری ہے ۔ اگر چار پڑھے گا تو گناہ گار ہوگا البتہ اگر مقیم امام کی اقتدا میں پڑھے تو پوری چار رکعت پڑھنا پڑے گا. حدیث شریف میں ہے : فرضت الصلاۃ رکعتین ثم ھاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ففرضت اربعا وترکت صلاۃ السفر علی الفریضۃ الاولی ” یعنی نماز دو رکعت فرض کی گئی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو چار رکعت فرض کر دی گئی اور سفر کی نماز پہلے فریضہ پر باقی رکھی گئی. مشکوٰۃ صفحہ 119 اور ایک دوسری حدیث شریف میں ہے : فرض اللہ الصلاۃ علی لسان نبیکم فی الحضر اربعا وفی السفر رکعتین یعنی اللہ تعالی نے ہمارے نبی کی زبان پر نماز کو فرض کیا حضر میں چار اور سفر میں دو رکعت. مشکوٰۃ شریف 119 ان حدیثوں سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جب مسافر نہ ہو تو چار رکعت فرض ہے اور جب مسافر ہو تو دو ہی رکعت فرض ہے. اسی لیے فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 139 پر ہے ” القصر واجب عندنا کذا فی الخلاصۃ ” یعنی ہمارے نزدیک قصر واجب ہے ایسا ہی خلاصہ میں ہے. اور علامہ برہان الدین علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ” فرض المسافر فی الرباعیۃ رکعتین لا یزید علیھا وان صلی اربعا یصیر مسیئا لتاخیر السلام ” یعنی مسافر کے فرض نماز چار والی میں دو رکعت ہے ان دونوں پر زیادہ نہیں کرے گا اور اگر چار پڑھ لی تو سلام دیر سے پھرنے کے سبب گنہگار ہوگا. ہدایہ اولین صفحہ 145 اور علامہ شرنبلالی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ” ان اقتدی مسافر بمقیم اتمھااربعا ١ھ. ملخصا یعنی اگر مسافر مقیم کی اقتداء کرے تو پوری چار رکعت پڑھے . نورالایضاح صفحہ ١٣٠ کتبہ : اشتیاق احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات