صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #545 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیا خنثیٰ امامت کر سکتا ہے ؟ از محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,864

سوال (Question):

کیا خنثیٰ امامت کر سکتا ہے ؟ از محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا خنثیٰ امامت کر سکتا ہے ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ خنثیٰ مردے کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے جبکہ بستی دیگر علماء وحفاظ موجود ہیں لھذا مذکورہ چیزوں میں سے کیا کیا نہیں کرسکتا بالتفصیل مدلل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : ابراہیم (آندھراپردیش) وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

بالغ مرد کو کسی بھی نماز میں خواہ نماز جنازہ ہو یا تراویح و نوافل خنثیٰ کی اقتداء جائز نہیں یہاں تک کہ خنثیٰ کو خنثیٰ کی اقتداء بھی جائز نہیں ہاں البتہ خنثیٰ عورت کا امام ہوسکتا ہے۔ جیساکہ فتاوی ھندیہ میں ہے وامامة الخنثیٰ المشکل للنساء جائزۃ ان تقدمھن و للرجال ولخنثیٰ مثله لا یجوز ” اھ (ج1ص:85 الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ بیروت) اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ “عورت، خنثیٰ، نابالغ لڑکے کی اقتدا مرد بالغ کسی نماز میں نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ نماز جنازہ و تراویح و نوافل میں اور مرد بالغ ان سب کا امام ہو سکتا ہے، مگر عورت بھی اس کی مقتدی ہو تو امامتِ عورت کی نیت کرے سوا جمعہ و عیدین کے کہ ان میں اگرچہ امام نے امامتِ عورت کی نیت نہ کی، اقتدا کرسکتی ہے اور عورت و خنثیٰ عورت کے امام ہوسکتے ہیں ، مگر عورت کو مطلقاً امام ہونا مکروہ تحریمی ہے، فرائض ہوں یا نوافل پھر بھی اگر عورت عورتوں کی اِمامت کرے، تو امام آگے نہ ہو بلکہ بیچ میں کھڑی ہو اور آگے ہوگی جب بھی نماز فاسد نہ ہوگی اور خنثیٰ کے لیے یہ شرط ہے کہ صف سے آگے ہو ورنہ نما زہوگی ہی نہیں ، خنثیٰ خنثیٰ کا بھی امام نہیں ہوسکتا۔ (بہار شریعت جلد اوّل صفحہ 573) کتبہ:محمد اشفاق عالم امجدی علیمی بچباری آبادپور کٹیہار الھند

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat