بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1881 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا خرگوش حلال ہے؟ اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ عرض ہے کے کیا خرگوش کو حلال کر سکتے ہیں اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔ وعليكم السلام الجواب بعون الملك الوهاب: خرگوش حلال ہے اور اسے ذبح کرکے اسکا گوشت کھانا جائز ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود بھی تناول فرمایا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عليهم أجمعين کو بھی اسکے کھانے کا حکم دیا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ” عن أنس قال: أنفجنا أرنبا بمرالظهران، فسعى القوم فلغبوا، فأدركتها فأخذتها، فأتيت بها أبا طلحة فذبحها، وبعث بها الى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم: بوركها وفخذيها، قال: فخذيها لا شك فيه، فقبله۔ قلت: وأكل منه، قال: وأكل منه، ثم قال بعد: قبله۔”(صحیح البخاری/باب:قبول هدية الصيد/حدیث نمبر:۲۵۷۲) ہدایہ میں ہے : "لابأس بأكل الأرنب لأن النبى صلى الله عليه وسلم أكل منه حين أهدى اليه مشويا وأمر أصحابه رضى الله تعالى عنهم بالأكل منه اھ”(ج ۴ ص ۴۲۵) درمختار میں ہے "(و)حل (غراب الزرع)الذي ياكل الحب(والأرنب)” (در مختار مع رد المحتار ج ۹ ص ۴۴۶/دار عالم الکتب الریاض) فتاوی رضویہ میں ہے "خرگوش ضرور حلال ہے، اسے حرام جاننا رافضیوں کا مذہب ہے، خرگوش کے پنجے ہی ہوتے ہیں، کھر والا خرگوش دنیا کے پردہ پر کہیں نہیں”(ج ۸ ص۳۷۰)والله سبحانه وتعالى أعلم کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دارالعلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۱/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۳/فروری ۲۰۲۲ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ