بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-680 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا حضرت فاطمہ کو حضرت علی رضي اللہُ عنہ نے غسل دیا تھا؟
سیّدہ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا کو حضرت علی رضي اللہُ عنہ نے غسل دیا تھا تو پھر باقی کے شوہروں کو منع کیوں وضاحت دی کیے بری مہربانی ہوگیالجواب
امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:جو منقول ہُوا کہ سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کو غسل دیا اس کے جوابات۔ (1): اوّلاً اسکی ایسی صحت و لیاقت حجّیت محلِ نظر ہے۔ (2): ثانیاً دوسری روایت یوں ہے کہ اُس جناب کو حضرت اُمِ ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دائی نے غسل دیا۔ (3): ثالثاً بمعنی امرشائع کہا جاتا ہے”امیر نے فلاں کو قتل کیا”بادشاہ نے فلاں قوم سے جنگ کی”حدیث میں آیا:نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اذان دی”یعنی اذان کا حکم دیا۔ (4): رابعاً اضافت فعل بسوئے مسبب غیر مستنکر اورحدیثِ علی ان وجوہ پر محمول کرنے سے تعارض مرتفع یعنی ام ایمن نے اپنے ہاتھوں سے نہلایا اور سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم،نے حکم دیا یا اسبابِ غسل کو مہیّا فرمایا۔ (5): خامساً مولٰی علی کرم اللہ وجہہ کے لئے خصوصیت تھی اوروں کا قیاس اُن پر روا نہیں۔ ہمارے علماء جو غسلِ زوجہ سے منع فرماتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ موت بسبب انعدام محل،ملک نکاح ختم ہو جاتی ہے،تو شوہر اجنبی ہو گیا،مگر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا رشتہ ابدالآباد تک باقی ہے کبھی منقطع نہ ہوگا۔ یہ کسی حدیثِ صحیح سے ثابت نہیں کہ مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خود اپنے ہاتھ سے غسل دیا،اور بالفرض ہو بھی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علاقے موت سے قطع نہیں ہوتے اور سب کے علاقے قطع ہو جاتے ہیں،یہ مضمون خود حدیث میں وارد ہے تو اوروں کو اُن پر قیاس جائز نہیں،مرد اپنی عورت کو غسل نہیں دے سکتا۔ (فتاوی رضویہ،جلد 7،صفحہ 28،مکتبہ غوثیہ،کراچی) واللہ اعلم بالصواب| ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں | کلک کریں |
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ