بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1570 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟
بخدمت اقدس حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا حاملہ عورت کو رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔ المستفتی فریاد خان نظامی خطیب وامام انوار رضا مسجد بڑی دمن (یوٹی) الجواب بہت ساری حاملہ عورتیں بفضلہ تعالی روزہ رکھتی ہیں اور ان کو کوئی ضرر نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی حاملہ عورت کو یہ ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان یا اس کے پیٹ میں موجود بچّے کی جان کو خطرہ ہے تو اس کو روزہ رمضان نہ رکھ کر دوسرے دنوں میں قضا کی اجازت ہے۔اور اگر یہ خوف نہ ہو تو اس کو رمضان شریف کا روزہ ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: "الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ، وَلَدِهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ. (فتاوی عالم گیری، کتاب الصوم ج١ ص ٢٠٧) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔” (بہار شریعت ح ۵ ص ١٠٠٩) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ۵/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ