دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2645
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,013
سوال (Question):
کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہے ؟
سوال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو مرغی بانگ دیدے تو اس کو فوراً ذبح کر دینا چاہیے تو کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہو جاتا ہے ؟ سائل : عبداللہ عیسیٰ خیل بسمہ تعالیٰ الجواب بعون الملک الوھّاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب جو مرغی بانگ دیدے تو نہ شریعت نے اس مرغی کو فوراً ذبح کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ کسی بزرگ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، لہذا مرغی کے مالک کی مرضی ہے چاہے تو اسے ذبح کر دے اور چاہے تو ذبح نہ کرے بلکہ بہتر ہے کہ لوگوں کے اس جاہلانہ خیال کو رد کرنے کے لئے اسے فوراََ ذبح نہ کرے ۔ چنانچہ مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفےٰ رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “فی الواقع نہ اس (ہر روز بانگ دینے والی) مرغی کو ذبح کرنا چاہیے، نہ ان پیڑوں (یعنی گھر میں موجود مہدی اور انار کے درختوں) کو (گھر سے) دور کرنا چاہیے، اس کا نہ حکم شرع سے ہے نہ بزرگوں کا ارشاد ہے، معلوم نہیں عوام سے کس عورت یا کس جاہل مرد کی یہ ایجاد ہے۔” (فتاویٰ مفتی اعظم جلد 5 صفحہ 209 ناشر اکبر بک سیلرز لاہور) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــہ : ابواسیدعبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat