لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا جماعت چھوٹنے کے خوف سے تیمم کر سکتے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا جماعت چھوٹنے کے خوف سے تیمم کر سکتے ہیں ؟

جماعت کھڑی ہے اور وضو کھانے پر کافی بھیڑ ہے اگر وضو کرتے ہیں تو جماعت چلی جائے گی تو کیا ایسے حالات میں تیمم کرسکتے ہیں؟ جوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نہیں ۔ ایسی صورت میں تیمم نہیں کرسکتے، بلکہ وضو کریں اور اگر جماعت چلی جائے اور الگ جماعت کرنا ممکن ہو تو الگ جماعت کرلیں ورنہ تنہا نماز پڑھ لیں لیکن بغیر وضو بنائے نماز نہ پڑھیں کہ وضو فرض ہے اور جماعت واجب اور واجب کے لیے فرض نہیں چھوڑا جائے گا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا تقبل صلوة من احدث حتي يتوضأ ۔” بے وضو کی نماز مقبول نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ وضو کرلے۔ نماز عبادت مقصودہ سے ہے اور اس سے مقصود ثواب ہے تو جب ثواب ہی نہ ملے گا تو نماز بھی نہ ہوگی اور نماز مقبول نہ ہوگی تو ثواب بھی نہ ملے گا۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات