لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا بھائی کے علاحدہ کاروبار میں دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہو تا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام مندرجہ ذیل مسئلہ میں: زید تین بھائی ہیں۔ دو بھائی والد کے ساتھ گھر پہ رہتے ہیں اور زید دہلی میں اپنا کاروبار کرتا ہے گھر والوں سے کبھی کچھ نہیں لیا بلکہ گھر والوں اور اپنے والدین پر خود ہی خرچ کرتا ہے ۔ اب کیا زید کی جائیداد میں زید کی حیات میں اسکے دونوں بھائی بھی حقدار ہیں؟ المستفتی: محمد منہاج رضا برداہا مہوتری نیپال الجوابـــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے کاروبار میں مشترکہ مال نہ لگایا ہو، بلکہ اپنی کمائی کے مال سے کاروبار کیا ہو تو شرعا اس میں اس کے دونوں بھائیوں کا حصہ نہیں ہے، ہاں! اگر برّ وصلہ کے طور پر انھیں بھی کچھ دیدے تو بہتر ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: "اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خورد ونوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا جیسے صورت مستفسرہ میں نوکری کا روپیہ یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے،خیریہ وعقود میں ہے : سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال ، لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ، ھل ھی لوالدہ؟ اجاب ھی للابن حیث لہ کسب مستقل۔ واما قول علمائنا یکون کلہ للاب، فمشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط: منھا اتحاد الصنعۃ وعدم مال سابق لھما وکون الابن فی عیال ابیہ فاذاعدم واحد منھا لایکون کسب الابن للاب وانظر الی ماعللوا بہ المسألۃ ان الابن اذاکان فی عیال الاب یکون معینا لہ فمدار الحکم علی ثبوت کونہ معینا لہ فیہ فاعلم ذٰلک۔” (فتاوی رضویہ ج ٨ص٢٣٠) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٧/ذو القعدة ١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات