لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا بندر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا بندر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بندر بنو اسرائیل کی نسل میں سے ہیں یا نہیں کہا جاتا ہے بندر ان ہی کی نسل سے ہیں ؟ بینوا و توجروا

الجواب ھو الھادی الی الصواب

موجودہ بندر مسخ شدہ بنو اسرائیل میں سے نہیں ہے تمام مسخ شدہ بنو اسرائیل تین دن بعد مر گۓ تھے ۔ امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کی ایک طویل روایت ذکر کی ہے۔، جن لوگوں نے ہفتہ کا دن مچھلی کا شکار کیا تھا۔، ان کی معصیت کی وجہ سے اللہ نے انکو بندر بنادیا وہ زمین میں صرف تین دن زندہ رہے ۔، انہوں نے نہ کچھ کھایا نہ پیا نہ ان کی نسل چلی۔، اور اللہ نے بندروں خنزیروں اور باقی تمام مخلوق کو چھ دنوں میں پیدا کیا تھا۔، جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔، اور اللہ نے اس قوم کو بندروں کی صورت میں مسخ کردیا اور وہ جس کے ساتھ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔، اس پر تمام مفسرین محدثین متکلمین کا اتفاق ہیں بنو اسرائیل کی مسخ شدہ نسل نہیں چلی۔،البتہ علامہ ابن العربی نے اس میں اختلاف کیا ہے بعض روایات کو لیکر مثلاً بندریہ کو رجم کیا گیا جو کی بخاری کے بعض نسخوں میں یہ روایت ہے ۔، ذبح شدہ گوہ کو پتیلوں میں سے پھینک دیا گیا اس کو کھایا نہیں گیا حب کہ تمام صحابہ بھوکے تھے۔، یا جو روایت چوہوں کے بارے میں آئی ہے ان سب روایات کو لیکر علامہ ابن عربی نے اختلاف کیا ہے۔، اب ہم ان سب کو ذکر کرے تو گفتگو بہت طویل ہوجائے گی۔، بہر حال خلاصہ کلام یہ ہے ۔ بنو اسرائیل کی نسل آگے نہیں چلی اس کی دلیل میں ہم اوپر حدیث ذکر کر آئے ہے۔، جس سے پتہ چلا وہ سب تین دن بعد ہلاک ہوگۓ تھے ان کی نسل نہیں چلی۔ نیز صحیح مسلم میں : حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ ۔ ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک کیا یا کسی قوم کو عذاب دیا تو پھر ان ( لوگوں ) کی نسل نہیں چلائی بندر اور خنزیر تو ان سے پہلے بھی موجود تھے صحیح مسلم حدیث نمبر 6772 یہ حدیث زیر بحث مسئلہ میں صاف تصریح ہے کہ موجودہ بندر اور خنزیر مسخ شدہ بنو اسرائیل میں سے نہیں یے ۔، کتبہ : علامہ مفتی دانش حنفی مد ظلہ العالی  ہلدوانی نینیتال

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات