بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1331 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا بار بار ہوا خارج ہونے کی صورت میں ہر بار وضو کرنا پڑے گا؟
سوال : اگر بار بار ہوا خارج ہو تو اس صورت میں کیا ہر بار وضو کر کہ نماز ادا کرنا ہو گی یا پھر ایک بار وضو کر کے نماز ادا کر سکتے ہیں؟ سائل: محمدمظفر حسین نوری، باغ ظہور، مالیگاوں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ایسا شخص جس کو عذر شرعی ہو، مثلاً بار بار ہوا کا خارج ہونا، مسلسل پیشاب کے قطروں کا نکلنا، خون کا نکلنا وغیرہ، ان کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے نماز کے وقت میں تازہ وضو کر کے نماز ادا کرے گا۔ ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اگر نماز کے وقت کے شروع ہونے سے پہلے وضو کیا پھر اسے ہوا خارج ہوتی رہی یا جو بھی عذر ہو پیش ہوتا رہا اور پھر نماز کا ٹائم ہونے پر نماز پڑھے تو نہیں ہوگی۔ اس لیے ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے اس کے وقت میں تازہ وضو کرے۔ اور جو شخص سلسل بول(پیشاب کے قطرات کی بیماری) یا ریح یا رسنے والے زخم کا مریض ہو، وہ شرعاً معذور ہے ایک وقت کے لیے ایک بار وضو کر لے، وقت کے اندر اندر جس قدر چاہے نماز ادا کرلے، قرآن کریم کو چھوئے، جب تک وقت باقی ہے، اس وجہ سے وضو نہ ٹوٹے گا، ہاں کسی اور وجہ سے وضو ٹوٹ سکتا ہے، جونہی وقت ختم ہوا وضو جاتا رہا۔ نئے وقت نماز کے لیے از سر نو وضو کرے۔ جس طرح نماز ادا کر سکتا ہے۔ تکبیر بھی پڑھ سکتا۔ اور اذان تو کوئی بھی بے وضو شخص بھی دے سکتا ہے۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصوابکیا الٹی آنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ