لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا اللہ کے فضل وکرم کی معرفت انبیاوصلحا سے زیادہ ہمیں حاصل ہو گئی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

آئیے!تھوڑی دیر قرآن کا مطالعہ کریں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "کیا اللہ کے فضل وکرم کی معرفت انبیاوصلحا سے زیادہ ہمیں حاصل ہو گئی ہے؟؟؟ ایمان والوں کی خوبیاں ذکر کرتے ہوئےسورۃ المؤمنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَ(المؤمنون،آیت:۵۷،۵۸،۵۹) ترجمہ:بیشک وہ جواپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں۔اور وہ جواپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں کرتے۔(کنزالایمان) مومن جیسے گناہ کے حوالہ سے اللہ سے ڈرتا ہے ویسے ہی نیکی کرکے بھی اس خوف سےبے چین رہتا ہے کہ کیا معلوم قبول ہوئی یا نہیں۔حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مومن نیکی کرنے کے باوجوداللہ عزوجل سے ڈرتا ہے جبکہ منافق گناہ کرنے کے باوجود بے خوف رہتا ہے۔(خزائن العرفان) سورۃ المؤمنون میں ہی آگےمزید اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ(المؤمنون ،آیت:۶۰) ترجمہ:اوروہ جودیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔(کنزالایمان) اس آیت کریمہ سے متعلق رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ارشاد فرمایا:اے صدیق کی بیٹی!اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہےجو روزےرکھتے ہیں،نمازیں پڑھتے ہیں،صدقے دیتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ اعمال نامقبول نہ ہوجائیں۔(ترمذی،الحدیث:۳۱۸۶) یہ بات انتہائی افسوس کی ہے کہ لوگ گناہ کرنے کے لیے اللہ کے فضل و کرم کا سہارا لینے لگے، بڑے سےبڑاگناہ کرکے بہت سارے حضرات یہ کہہ کر اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں کہ اللہ بہت کریم ہے ہمیں معاف کر دے گا،اس تعلق سے زیادہ کچھ کہنے کے بجائے امام غزالی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک قول بس کافی ہے۔احیاء العلوم میں فرماتے ہیں: "پیغمبران عظام علیہم السلام اورصالحین امت دن بھر نیکیاں کرنے اور چھوٹے بڑے گناہوں سے باز رہنے کے باوجود رات کو تنہائی میں روتے تھےاور آج لوگ گناہ کر کے بے باک ہو گئے ہیں بلکہ ان کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ کے فضل و کمال پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کرم فرما دے گا،بس ایسے لوگ اتنی سی بات بتادیں کہ کیا اللہ کے فضل و کرم کی معرفت انہیں پیغمبران عظام اور صالحین امت سے زیادہ حاصل ہو گئی ہے؟نہیں ہر گز نہیں تو جب وہ نیکیاں کر کے ڈرتے تھے تو ہمیں گناہ کر کے بے خوف اور نڈر رہنے کا حق کہاں سے حاصل ہے؟ پس ہمیشہ ہر حال میں اپنے دل میں اللہ کا خوف بسائے رکھیں اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔۔۔۔۔۔ طالب دعا: محمد سجاد برکاتی نجمی (خادم التدریس جامعہ حرا نجم العلوم مہاپولی مہاشٹرا و مبلغ سنی دعوت اسلامی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات