لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا اللہ جھوٹ بولنے ،زنا اور چوری کرنے پر بھی قادر ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا اللہ جھوٹ بولنے ،زنا اور چوری کرنے پر بھی قادر ہے ؟ 

قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ان اللہ علی کل شئی قدیر کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے ، تو جھوٹ بولنا، چوری کرنا، شراب پینا اور شادی وغیرہ کرنا بھی ایک شے ہے تو کیا اللہ تعالیٰ ان چیزوں پر بھی قادر ہے ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ جھوٹ بولنا ،چوری کرنا اور شراب پینا عیب ہے اور اللہ تعالی کے لیے ہر عیب محال ہے ممکن نہیں ۔ اور خدائے تعالی کی قدرت صرف ممکنات کو شامل ہے نہ کہ محالات کو ۔ تفسیر جلالین میں ہے ان اللہ علی کل شئ قدیر کہ اللہ ہر اس چیز پر قادر ہے جس کو چاہتا ہے  صاوی میں پے کہ شا سے مراد ارادہ ہے،اور ژات باری تعالی کے ارادہ اور قدرت صرف ممکنات سے متعلق ہوتے ہیں نہ کہ محالات سے ۔ اور شرح عقاید جلالی میں ہے کہ جھوٹ بولنا عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال ہے تو اللہ تعالی کا جھوٹ بولنا ممکنات سے نہیں نی اللہ تعالی کی قدرت اسے شامل ہے جیسے کہ تمام اسباب عیب مثلا جھہ اور عجز سب خداے تعالی کے لئے محال ہیں اور صلاحیت قدرت سے خارج ہیں ۔ تو ہر وہ چیز جو صفت عیب ہے باری تعالی اس سے پاک ہے اور خدائے تعالی پر محال ہے ممکن نہیں، رہا شادی کرنا تو یہ بھی محال ہے کہ خدا تعالی کو شادی پر قادر ماننے سے کئی خدا کا ہونا لازم آتا ہے ۔ اس لئے کہ جب شادی پر قادر ہو گا تو استقرار حمل و تولید ولد پر بھی قادر ہوگا  اور خدا کا بچہ خدا ہی ہوگا ۔ قرآن مجید میں پارہ 25 رکھتی ہے کہ تم فرماؤ کہ اگر رحمان کے لیے کوئی بچہ ہے تو میں سب سے پہلے اس کا پوجنے والا ہوں ۔ تو قطؑا دو بلکہ کئی خدا کا ہونا لازم آیا کہ قدرت خدا کی انتہا نہیں ۔ ایسے ہی جھوٹ بولنا، چوری کرنا زنا کرنا اللہ تبارک و تعالی ان سب چیزوں سے پاک ہے اور اللہ تعالی کے لیے ایسی چیز کا ماننا عیب اور نقص ہے اور ذات باری عیوب اور نقائص سے پاک ہے ۔ ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول کتاب العقائد صفحہ نمبر ١

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات