لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا اللہ تعالی کے ہنسنے یا مسکرانے کا قرآن کریم یا حدیث سے کوئی ثبوت ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا اللہ تعالی کے ہنسنے یا مسکرانے کا قرآن کریم یا حدیث سے کوئی ثبوت ہے؟

اس بارے میں اہل سنت وجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ آپ کے جواب کا منتظر، برائے کرم اس بارے میں رہنمائی فرماویں۔ المستفسر:حافظ محمد احسان جامعہ المرکز الاسلامی فضل پارک شاد باغ لاھور الجواب بتوفیق اللہ الملک الوھاب بسم الله الرحمن الرحيم مسلم شریف: ۱/۱۰۵ باب إثبات الشفاعة وإخراج الموٴحدین من النار پر ایک طویل حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہنسنے کا ذکر موجود ہے، فضحک ابن مسعود فقال: ألا تسألوني مم أضحک قالوا مم تضحک فقال: هکذا ضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا مم تضحک یا رسول اللہ فقال: من ضحک رب العالمین حین قال أتستہزئ مني وأنت رب العالمین فیقول: إني لا أستہزئ ولکني علی ما أشاء قادر (مسلم شریف) اہل سنت و جماعت کے نزدیک ضحک سے مراد اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا اورخیر اور رحمت کا ارادہ کرنا ہے، حقیقی ضحک مراد نہیں ہے، قد قدمنا معنی الضحک من اللہ تعالی وهو الرضی والرحمة وإرادة الخیر لمن یشاء رحمتہ من عبادہ (حاشیہ مسلم) واللہ و رسولہ اعلم بالصواب مفتی عبداللطیف قادری مہتمم جامعہ المرکز الاسلامی فضل پارک شاد باغ لاھور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات