لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

سوال ۔۔۔۔ السلام علیکم! کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔۔ دیکھیں اذان کے لئے وضو کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دینے والے کے لئے باوضو رہنے کی ہدایت فرمائی ہے جیساکہ جامع ترمذی میں حدیث مبارک ہے : عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یؤذن الا متوضیئ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باوضو شخص ہی اذان کہے ۔ (جامع ترمذی ، ابواب الصلوٰۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاذان بغیر وضوء ، حدیث نمبر:٢٠٠) اگر کوئی شخص بغیر وضو اذان کہہ دے تو جائز ہوجاتی ہے ، اُسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جیساکہ ہدایہ میں ہے : وینبغی أن یؤذن ویقیم علی طہر فإن أذن علی غیر وضوء جاز۔(الہدایۃ، باب الاذان ) تاہم بہتر یہ ہے کہ بحالتِ وضو اذان کہی جائے کیونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لئے بلانا ہے ، لہذا مؤذن کو چاہئے کہ جس کارِ خیر کے لئے دعوت دے رہاہے خود بھی اس کے لئے عملی طور پر تیار رہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب – از: محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات