بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1394 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا آپ ﷺ نے کسی بیوی کو طلاق دی تھی؟
سائل : حافظ اظہار رضا، خطیب وامام مدوبابا مسجد مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی، لیکن پھر رجوع فرما لیا تھا۔سنن أبي داود، ت الأرنؤوط (3/ 593) ” عن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طلق حفصة، ثم راجعها”۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، اس لئے مزاج میں ذرا تیزی تھی، حضرت امیر المومنین ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ان کی کسی سخت کلامی سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دل آزاری نہ ہوجائے، چنانچہ بار بار آپ ان سے فرماتے تھے کہ جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے طلب کرلو ، اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تم سے ناراض ہوگئے تو تم خدا کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گی- ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی- جبریل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوئے- ارجع حفصۃ فانھا صوامۃ قوامۃ وانھا زوجتک فی الجنۃ- ترجمہ: حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرلیجئے وہ بڑی روزہ دار اور عبادت گزار عورت ہے، اور جنت میں آپ کی بیوی ہے- (ابن سعد اور طبرانی) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم مفتی :محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ