لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کا حکم

اگر غصے میں ایک ہی سانس یا ایک ہی میسج میں 3 بار 'طلاق طلاق طلاق' کہہ دیا تو کیا ہو گا؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

چاروں آئمہ (بشمول فقہ حنفی) کے متفقہ فتوے کے مطابق ایک ہی مجلس یا ایک ہی جملے میں دی گئی 3 طلاقیں 3 ہی شمار ہوتی ہیں۔ ایسا کرنا سخت گناہ (طلاقِ بدعت) ہے، لیکن طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد عورت ‘مطلقہ مغلظہ’ بن جاتی ہے، نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے اور بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح حرام ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-471 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

طلاق کے مسائل