بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2565 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیاسورج اور چاند کو گرہن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے لگتا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــ گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ’’سورج گرہن اور چاند گرہن‘‘ کسی بڑی شخصیت کے انتقال کی وجہ سے ہوتے ہیں‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فاسد عقیدے کو غلط قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا؛ َاِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدِِ مِنَ النَّاسِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا (الصحیح البخاری 142/1) یعنی بےشک سورج اور چاند کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن والے نہیں ہوتے ہیں، لیکن وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم سورج اور چاند گرہن دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو”۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورج، چاند میں گرہن کا لگنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ لوگوں پر چاند اور سورج کا عاجز اور محتاج ہونا ظاہر ہوجائے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ