لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کھڑے ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کھڑے ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟

کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ کھڑے ہو کر کھانا کھانا کیسا ہے؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابـــــــــــــ جن چیزوں کو بطور غذا کھایا جاتا ہے ان کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ فرش وغیرہ پر بیٹھ کر کھایا جاے کہ یہی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عادت کریمہ اور سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے اور یہی افضل بھی ہے اور ان چیزوں کو کھڑے ہوکر کھانا مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے ۔ البتہ جو چیزیں بطور لذت کھائی جاتی ہیں مثلا میوہ وغیرہ تو ان کو کھڑے ہوکر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہاں ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ بیٹھ کر کھائے۔ مسلم شریف کی حدیث پاک ہے : "عن قتادۃ عن انس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انہ نھی ان یشرب الرجل قائما قال قتادہ فقلنا فالاکل فقال ذاک اشر او اخبث ” اھ (صحیح مسلم: کتاب الاشربۃ ، باب: کراھیۃ الشرب قائما، حدیث : 5158) فتاوی رضویہ میں ہے : ” ہاں عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھاکر کھانا تناول فرمانا تھی اور یہی افضل ہے "اھ (الفتاوٰی الرضویۃ : ج:21، ص: 629، باب: الشرب والطعام) واللہ تعالٰی اعلم عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی. انڈیا ٦ جمادي الاول ١٤٤٣ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات