بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2359 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کچھ پیر حضرات یہ کہتے ہیں کہ ہم تو نماز پڑھتے ہیں مریدوں کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــ یہ بہت بڑی نادانی کی بات ہے ۔ اور اس بکواس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آدمی یہ کہہ رہا ہے کہ مریدوں پر نماز فرض نہیں ہے ہمارا ہی پڑھ لینا کافی ہے ۔ اگر یہ مراد ہے جیسا کہ لفظ” ضرورت” کا تقاضا یہی ہے تو ایسی صورت میں وہ ایمان سے خارج ہوگیا کیونکہ نماز کی فرضیت کا منکر کافر ہوا کرتا ہے ۔ جس نے بھی ایسا کہا جب تک ہم اس کے قول و معنی مراد کی تحقیق نہ کرلیں اس پر ابھی کھلا ہوا حکم تو نہیں لگا سکتے لیکن اس کا ظاہر کفر ہے ۔ ایسے شخص کو حکم دیا جاتا ہے کہ اعلانیہ مسلمانوں کے مجمع میں توبہ کرے اور وعدہ کرے کہ آئندہ ایسی بات نہیں کہے گا اور ساتھ ہی ساتھ کلمہ پڑھ کر تجدید اسلام کرے، اگر بیوی والا ہو تو بیوی سے نکاح بھی کرے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں ۔ واللہ تعالی اعلم علم کتبـــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ