لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

سوال : کچھوچھہ شریف میں حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ کے بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے لوگ اس میں غسل اور وضو کرتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا پینا اور وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــ غسل اور وضو کا پانی ماء مستعمل ہے اور طاہر غیر مطہر ہے نجس نہیں. اگر حوض میں گر گیا تو حوض ناپاک نہ ہوگا جب خود ناپاک نہیں تو دوسرے کو ناپاک کیا کرے گا. اور حوض جبکہ دہ دردہ ہو تو نجاست گرنے سے بھی ناپاک نہ ہوگا. اور ہر وہ گڈھا جس کی پیمائش مربع سو ہاتھ ہو وہ بڑا حوض ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 48 پر ہے اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 18 میں ہے ” الماء الراکد اذا کان کثیر فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیع بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ او ریحہ ” ١ھ. اور اسی صفحے پر ہے ” ان الغدیر العظیم کالجاری لا یتنجس ” ١ھ. اور ایسا ہی در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 190 پر ہے. اور حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ مقدسہ کی بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے وہ دہ در دہ سے کہیں زیادہ ہے لہذا جہاں نجاست کی وجہ سے رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا اور اس کا پینا بھی جائز ہے. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کمبولوی گجراتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــــــــدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات