دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1816
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کپڑے میں نجاست لگی ہے اور اس حال میں نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,070
سوال (Question):
کپڑے میں نجاست لگی ہے اور اس حال میں نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کپڑے میں نجاست لگی ہے اور اس حال میں نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــ اگر کپڑے میں لگی نجاست غلیظہ ہے اور ایک درہم سے زیادہ ہے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے بغیر پاک کئے نماز پڑھ لیی تو ہو گی ہی نہیں ۔ اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا ۔ اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بغیر پاک کئے پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے ۔ اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے . اور اگر نجاست خفیفہ ہے تو کپڑے کے جس حصہ میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے مثلا دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم، آستین میں لگی ہے تو آستین کی چوتھائی سے کم ، ایسے ہی ہاتھ میں اس کی چوتھائی سے کم ہے تو معاف ہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی. اور اگر پوری چوتھائی میں ہے تو بغیر دھوئے نماز نہ ہوگی. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 96 میں ہے. اور حضرت علامہ حصکفی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہیں ” وعفا الشارع عن قدر الدرھم وان کرہ تحریما فیجب غسلہ وما دونہ تنزیھا فیسن وفوقہ مبطل فیفرض” در مختار مع الشامی جلد اول صفحہ ٢٣٢ اور اسی کتاب کی اسی جلد کے صفحہ 213 پر نجاست خفیفہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں ” وعفی دون ربع جمیع بدن وثوب ولو کبیرا ھو المختار ذکرہ الحلبی ورجحہ فی النھر علی التقدیر بربع المصاب کید وکم من نجاسۃ مخففۃ ١ھ. ملخصا. اور اگر بدن پر ایک درہم سے زائد نجاست لگی ہوئی ہے مگر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ جس سے نجاست دور کرے تو اسی حالت میں نماز پڑھنے سے ہو جائے گی. جیسا کہ عجائب الفقہ صفحہ 102 پر شرح وقایہ جلد اول صفحہ 134 کے حوالہ سے ہے ” عادم مزیل النجس صلی معہ ولم یعد ١ھ. اور جب کہ کپڑا چوتھائی سے کم پاک ہو اور نجاست دور کرنے کے لیے پانی وغیرہ نہ ہو اور دوسرا کپڑا ہو تو اس صورت میں ننگے نماز پڑھنے سے نجاست لگے ہوئے کپڑے میں نماز جائز ہی نہیں بلکہ اسی نجاست کے ساتھ پڑھنا افضل ہے جیسا کہ آج عجائب الفقہ صفحہ 102 پر شرح وقایہ اول مجیدی صفحہ 137 سے ہے ” ان صلی عاریا وربع ثوبہ طاھر لم تجز وفی اقل من ربعہ الافضل صلاتہ فیہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد عبد الحئی قادری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat