لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کورونا سے مرے ہوئے غیر مسلم لوگوں کی لاشوں کا اُن کے مذہب کے مطابق انتم سنسکار کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کورونا سے مرے ہوئے غیر مسلم لوگوں کی لاشوں کا اُن کے مذہب کے مطابق انتم سنسکار کرنے کا حکم!!!

سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل میں کہ موجودہ وقت میں کرونا مرض میں مبتلا ہوکر مرنے والے غیر مسلم مردوں کی آخری رسومات ان کے اپنے مذہب کے اعتبار سے کچھ مسلمان حضرات کر رہے ہیں یہ کہاں تک درست ہے اگر درست نہیں تو ان پر کیا حکم شرع ہے؟ ،بینوا توجروا المستفتی۔فیض الرحمن صدیقی علیمی ڈومریا گنج سدھارتھ نگر یوپی باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب اگر کوئی غیر مسلم مر جائے اور کوئی اس کا ہم مذہب نہ ہو جو اس کی میت کو ٹھکانے لگائے تو جیفۂ سگ کی طرح دفع عفونت و ضرر کے پیش نظر ایک کپڑا میں لپیٹ کر کسی گڑھے میں دبا دیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے "اگر کفار میں بھی کوئی نہ ملے تو جیفۂ سگ کی طرح دفع عفونت کےلئے کسی گڑھے میں دبا دیں۔” (ج ۴ ص ۱۱۳) بہار شریعت میں ہے”کافر مردے کےلئے غسل و کفن نہیں بلکہ ایک چتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں داب دیں یہ بھی جب کریں کہ اس کا کوئی ہم مذہب نہ ہو یا اسے لے نہ جائے ورنہ مسلمان ہاتھ نہ لگائے نہ اس کے جنازے میں شرکت کرے۔” (ج ۴ ص ۱۳۷) رہا کفار کی آخری رسومات کے مطابق مسلمانوں کا غیر مسلم مردہ کو جلانا تو یہ سخت ناجائز و حرام ہے کہ کفار کی مذہبی رسوم کو اپنانا حرام حرام سخت حرام کفر و ضلالت انجام ہے ارشاد باری تعالی ہے"وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ”(البقرۃ ۲۰۸) اور فرماتا ہے”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خٰسِرِينَ”(آل عمران ۱۴۹) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کےلئے یہ جائز نہیں کہ غیر مسلم میت کے کفن دفن میں شریک ہو اور اگر کہیں یہ صورت پیش آجائے کہ غیر مسلم میت کو کوئی اس کا ہم مذہب لے جانے والا نہ ہو تو مسلم کسی گڑھے میں دبا دیں اس کے مذہب کے اعتبار سے جلانا وغیرہ حرام ہے اور جو مسلمان ایسا کریں تو وہ فورًا توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے کام سے پرہیز کریں . واللہ تعالی اعلم کتبہ: محمد اختر حسین قادری صدر شعبۂ افتا دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضی شہر خلیل آباد یوپی ۱۸ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات