بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1893 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کن وجوہات کی بنا پر سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان شریعت اس مسئلہ میں کہ کیا سجدہ سہو واجب ہونے کے بعد کبھی ساقط ہو جاتا ہے کچھ وجوہات ہیں تو بیان کریں؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــ بے شک کچھ وجوہات ایسی ہیں کہ سجدہ سہو واجب ہونے کے بعد بھی ساقط ہو جاتا ہے مثلا وقت میں گنجائش نہ ہو تو سجدہ سہو ساقط ہوجائے گا جیسا کی فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں سجدہ سہو اس وقت واجب ہوتا ہے کہ میں گنجائش ہو اگر نہ ہو مثلاً نماز فجر میں سہو واقع ہوا اور پہلا سلام پھیرا اور سجدہ ابھی کیا کہ آفتاب طلوع کر آیا تو سجدہ ساقط ہوگیا. یوں ہی اگرقضا پڑھتا تھا اور سجدہ سے پہلے قرص آفتاب زرد ہوگیا سجدہ ساقط ہوگیا. جمعہ یا عید کا وقت جاتا رہے گا جب بھی یہی حکم ہے. (بہارشریعت صفحہ 49 حصہ 4) اور درمختار مع الشامی جلد 2 صفحہ 77 پر ہے ” يجب بعد سلام واحد عن يمينه فقط سجدتان اذا كان الوقت صالحا فلو طلعت الشمس في الفجر او احمرت في القضاء سقط عنه فتح ١ھ. اور مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر جلد اول صفحہ 147 پر ہے ” لا يسجد للسهو اي في العيدين والجمعه لئلا يقع الناس في فتنۃ” وهو تعالى اعلم کتبہ : مفتی محمد عبد القادر رضوی باسنوی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ