بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1284 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کمبل یا بستر وغیرہ کو پاک کرنے کا طریقہ
ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے متعلق اگر کوئی کمبل یا بستر وغیرہ ناپاک ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب اگر کوئ کبمل یا بستر وغیرہ ناپاک ہوجائیں تو اس کو اگر نچوڑا جا سکتا ہے تو نچوڑ کر پاک کیا جائےگا، ورنہ بہتے پانی میں رکھ دیں جب نجاست کے ختم ہونے کا ظن غالب ہو جائے تو پاک ہو جائے گا، یا پھر اس کو دھو کر اتنی دیر سوکھنے کے لئے رکھ دیں جتنی دیر میں اس کا پانی خشک ہو جائے پھر دو بارہ ایساہی کریں پھر تیسری بار اس کو دھو کر سوکھنے کے لئے لٹکا دیں جب اس کا پانی ٹپکنا بند ہو جائے تو وہ پاک ہوجائے گا- (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ جو کپڑے نچوڑ نے میں آسکیں جیسے ہلکی توشک رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاک ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا اُن پر پانی بہائیں یہاں تک کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے- (فی الدرالمختار، یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلك لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار- (یعنی: درمختار میں ہے نجاست نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاك ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاك ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھو کر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشك کرلیا جائے(یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑ نے یا خشك کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقًا پاك ہوجائے گی یہی مختار ہے- (درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی جلد1صفحہ56) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ شریف جلد4صفحہ557-رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ