بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2460 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کفریہ کلمہ بکنے والے کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں ؟
سوال: ايک خاتون دینی کام میں رغبت رکھتی ہیں ، لیکن شوہر انہیں اس سے دور رکھتا ہے اور اجتماع میں جانے سے منع کرتا ہے ۔ اور کبھی کبھی (معاذاللہ) کفریہ جملہ بھی بول دیتا ہے تو کیا یہ عورت سے بے زار ہو کر طلاق لے سکتی ہے ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر یہ بات سچ ہے کہ شوہر کفریہ کلام بک دیتاہے ، تو پھر اس صورت میں طلاق لینے کی کیا ضرورت ۔ کفریہ کلام بک دینے کی وجہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی بیوی نکاح سے فوراً الگ ہوجاتی ہے ۔ لہذا جب شوہر نے پہلی بار کلمہ کفر بکا تھا اس کے بعد تین حیض گزر گئے تو عورت جہاں چاہتی نکاح کرسکتی تھی ۔ الگ سے طلاق لینے کی کوئی حاجت نہیں ۔ لیکن عورتیں عام طور سے شریعت سے ناواقف رہتی ہیں اس لیے فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ شوہر نے جو کلمات کہے وہ حقیقی معنوں میں کلمہ کفر ہیں یا نہیں ، اس لیے اگر کسی کلمہ کے تعلق سے عورت سمجھتی ہے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو کسی مفتی سے سمجھ لینا چاہئیے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ