صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2460 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کفریہ کلمہ بکنے والے کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 6,114

سوال (Question):

کفریہ کلمہ بکنے والے کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کفریہ کلمہ بکنے والے کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں ؟

سوال: ايک خاتون دینی کام میں رغبت رکھتی ہیں ، لیکن شوہر انہیں اس سے دور رکھتا ہے اور اجتماع میں جانے سے منع کرتا ہے ۔ اور کبھی کبھی (معاذاللہ) کفریہ جملہ بھی بول دیتا ہے تو کیا یہ عورت سے بے زار ہو کر طلاق لے سکتی ہے ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر یہ بات سچ ہے کہ شوہر کفریہ کلام بک دیتاہے ، تو پھر اس صورت میں طلاق لینے کی کیا ضرورت ۔ کفریہ کلام بک دینے کی وجہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی بیوی نکاح سے فوراً الگ ہوجاتی ہے ۔ لہذا جب شوہر نے پہلی بار کلمہ کفر بکا تھا اس کے بعد تین حیض گزر گئے تو عورت جہاں چاہتی نکاح کرسکتی تھی ۔ الگ سے طلاق لینے کی کوئی حاجت نہیں ۔ لیکن عورتیں عام طور سے شریعت سے ناواقف رہتی ہیں اس لیے فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ شوہر نے جو کلمات کہے وہ حقیقی معنوں میں کلمہ کفر ہیں یا نہیں ، اس لیے اگر کسی کلمہ کے تعلق سے عورت سمجھتی ہے کہ یہ کلمہ کفر ہے تو کسی مفتی سے سمجھ لینا چاہئیے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat