بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1154 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کفارکے دواعتراضات کے جوابات
کیااسلام صرف دفاعی جہاد کاقائل ہے؟
آج دین اسلام کے احمق خیرخواہ کفارومشرکین کی باتوں میں آکر اہل اسلام کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جہاد کانام تک نہ لیں اورمختلف طریقوں سے ان کو جہاد سے دورکرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے پھیلائے ہوئے جالوں میں سے ایک جال یہ بھی ہے کہ اسلام تو صرف جہاد دفاعی کی اجازت دیتاہے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جتنے بھی معرکے سرکئے ہیں وہ سب کے سب دفاعی تھے ان میں کوئی بھی اقدامی نہ تھا۔ ایسے لوگوں کے جواب میں حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ منسوخ ہے پہلے مسلمانوں کو صرف جوابی حملہ کرنے کی اجازت دی گئی اورپھرابتدائی حملہ کی بھی اجازت مل گئی ۔ مرزائی اتنانہیں سمجھتے کہ سوائے جنگ احداور خندق کے باقی تمام غزوات میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ہی کفارپر حملے کئے ہیں ۔ بدروحنین ، فتح مکہ مکرمہ میں کفارنے اولاً حملہ نہیں کیاتھا، نیزحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جنگ قادسیہ ویرموک وغیرہ میں بھی مسلمانوں ہی نے کفارپر حملے کئے ، کیایہ جنگیں ناجائزہوئیں ۔ نیز یہ کون سی عقلمندی ہے کہ کفارکو جنگ کی تیاری کی مہلت دے دوجب وہ پیٹنے لگیں سربچالوضروری ہے کہ جس قوم سے جنگ کاخطرہ ہواس کی سرکوبی کرکے جنگ کے قابل نہ رکھاجائے ، بیچارے مرزائی جہادکے راز کیاجانیں ۔ جن کے نبی(ملعون) کی نبوت دوسروں کے زیرسایہ پھلی پھولی ہوجہاد مردوں کاکام ہے ۔ سانپ کوکاٹنے کاموقع مت دو پہلے ہی اسے ماردو۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۲۴۷)کیااسلام تلوار کے زورپرپھیلاہے ؟
حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی ایک معترض پنڈت کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پنڈت جی ! ہاں اسلام تلوارکے زورسے پھیلاہے ، یہی اس کی حقانیت کی دلیل ہے ، ہراچھی چیزتلواراورقوت سے ہی پھیلتی ہے ، بری چیز خودبخود بڑھتی رہتی ہے ، بدامنی ، بیماری ، حرامکاری خود بخودپھیلتی ہے ۔ مگرامن وتندرستی پھیلانے اورحرامکاری روکنے کے لئے بہت قوت اوردولت خرچ کرنی پڑتی ہے ۔ تمھارادھرم گھاس پھوس اوربیماری کی طرح خود بخود پھیلاہوگا، ہمارااسلام توبے شک طاقت وقوت اورجہاد سے ہی پھیلاہے ۔ پنڈت جی! تمھارے دھرم نے طاقتوروں کے سایہ میں رہناسیکھاہے ہمارے مذہب اسلام نے خود طاقتوربن کردوسروں کو اپنے سایہ میں رکھنے کی تعلیم دی ہے ۔ انہیں غلط اصولوں سے ہندوستان ہمیشہ دوسروں کاغلام رہا، آپ جو آرام کررہے ہویہ بھی برٹش گورنمنٹ کی تلوارکے سایہ کا صدقہ ہے ، اسلام نے بے قصوروں سے جنگ نہ کی بلکہ مذہبی آزادی کے لئے آڑ کوہٹایا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۲۴۷) ماخوذ : از تفسیر ناموس رسالت
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ