لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ نماز کا وقت تنگ ہو گیا ہو یا پانی اتنا کم ہو کہ اگر کلی کریں گے اور ناک میں پانی ڈالیں گے تو فراٸضِ وضو کیلیے پانی پورا نہیں ہوگا تو ان دو صورتوں میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں جاٸز نہیں ۔ چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے: "لَوْضَاقَ الْوَقْتُ اَوِ الْمَاءُ عَنْ سُنَنِ الطَّھَارَةِ حَرُمَ فِعْلُھَا” یعنی اگر وقت یاپانی طہارت(یعنی وضو)کی سنتوں کیلیے تنگ ہو تو سنتوں (کلی , ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ ) کی ادائیگی حرام ہے ـ (الاشباہ والنظائر صفحہ 117 ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات