لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کسی ہندو کے پیسے سے حج ہوگا یا نہیں ؟ مفتی نظام الدین رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی ہندو کے پیسے سے حج ہوگا یا نہیں ؟

سوال : ایک غیر مسلم مالدار نے منت مانی کہ اگر میری مراد پوری ہو جائے گی تو میں ایک مسلمان کو حج کراؤں گا، اب مراد پوری ہو جانے پر وہ ایک مسلمان کو حج کرانا چاہتا ہے تو کیا اس کے پیسے سے حج کر سکتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں، غیر مسلم کے دیئے ہوئے روپے، پیسے سے حج کر سکتے ہیں۔ حج کے فرائض،ارکان، واجبات اور سنن و مستحبات سب مسلمان ادا کرتا ہے اور مسلمان ان عبادات کے ادائیگی کا اہل ہے ۔ اصل عبادت میں کہیں بھی غیر مسلم شریک نہیں ہے اس لیے بلاشبہ اس کا حج صحیح و درست ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ وہ غیر مسلم جس کی مراد پوری ہوئی ہے حج کے لئے جس مقدار میں روپے خرچ ہوں گے اس سے کچھ زائد کسی مسلمان کو دے کر مالک بنا دے پھر وہ اس سے حج کرے۔ اگر دوسری شرط نہیں پائی جاتی ہیں تو وہ حج مقبول بھی ہو گا ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات