صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2500 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کسی ہندو کے پیسے سے حج ہوگا یا نہیں ؟ مفتی نظام الدین رضوی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 11,503

سوال (Question):

کسی ہندو کے پیسے سے حج ہوگا یا نہیں ؟ مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی ہندو کے پیسے سے حج ہوگا یا نہیں ؟

سوال : ایک غیر مسلم مالدار نے منت مانی کہ اگر میری مراد پوری ہو جائے گی تو میں ایک مسلمان کو حج کراؤں گا، اب مراد پوری ہو جانے پر وہ ایک مسلمان کو حج کرانا چاہتا ہے تو کیا اس کے پیسے سے حج کر سکتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں، غیر مسلم کے دیئے ہوئے روپے، پیسے سے حج کر سکتے ہیں۔ حج کے فرائض،ارکان، واجبات اور سنن و مستحبات سب مسلمان ادا کرتا ہے اور مسلمان ان عبادات کے ادائیگی کا اہل ہے ۔ اصل عبادت میں کہیں بھی غیر مسلم شریک نہیں ہے اس لیے بلاشبہ اس کا حج صحیح و درست ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ وہ غیر مسلم جس کی مراد پوری ہوئی ہے حج کے لئے جس مقدار میں روپے خرچ ہوں گے اس سے کچھ زائد کسی مسلمان کو دے کر مالک بنا دے پھر وہ اس سے حج کرے۔ اگر دوسری شرط نہیں پائی جاتی ہیں تو وہ حج مقبول بھی ہو گا ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat