بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1541 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علماۓ فحول و مفتیان ذوی العقول مسئلۂ ذیل میں : اگر کسی شخص کے پاس ۵ لاکھ (lakh) ہو اور اس نے ایک لاکھ لون loan لے لیا ، جس کو پانچ ہزار ماہانہ بطور قسط ایک لاکھ ہزار بھرنا ہے۔تو اسے زکوٰۃ کتنے روپیہ میں نکالنا پڑے گا ؟ الجوابـــــــــــــــــ اگر سالِ زکاة مکمل ہونے کے بعد لون لیا ہو تب تو اس لون کا کوئی اثر گزشتہ سال کی زکاة پر مرتب نہیں ہوگا، بلکہ سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے پاس جتنا مالِ زکاة ہو سب کی زکاة ادا کرے۔اس لون کی وجہ سے گزشتہ سال کی زکاة کچھ کم نہ ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "ھذا اذا کان الدین فی ذمتہ قبل وجوب الزکاة، فلو لحقہ بعدہ لم تسقط الزکاة؛ لانھا ثبتت فی ذمتہ فلا یسقطھا ما لحق من الدین بعد ثبوتھا” (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاة، ج٣ ص١٧٦) اور اگر سالِ زکاة مکمل ہونے سے پہلے ایک لاکھ لون لیا ہے تو اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے یہ پانچ لاکھ اپنے اور ایک لاکھ لون والے موجود ہیں تو پورے پانچ لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔کیوں کہ بینک کے ایک لاکھ لون پر قرض ہونے کی وجہ سے اس پر زکاة نہیں ہے۔ اور اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر مثلا چار لاکھ بچے تو اصلی ایک لاکھ لون میں سے جتنا بینک کا اُس پر اِس وقت واجب الادا ہے اتنا کم کرکے چار لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔ مان لیجیے مثال کے طور پر بیس رمضان المبارک کو اس کا سال زکاة مکمل ہوتا ہے اور اُس تاریخ کو اُس کے پاس چار لاکھ بچے ہیں۔اور اِس تاریخ سے پہلے اس نے اصل لون میں میں سے چالیس ہزار بینک کو ادا کردیا ہے۔تو ساٹھ ہزار جو اصل لون میں سے اس پر باقی ہے اتنی رقم کم کرکے تین لاکھ چالیس ہزار کی زکاة ادا کرنی ہوگی۔لیکن وہ انٹرسٹ جو لون پر اس کو بینک کو دینا ہے اس کو موجودہ رقم سے کم نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ وہ ایک ناجائز رقم ہے جس کی ادائیگی بینک کے قانون کے مطابق اگرچہ ضروری ہو، لیکن شرعاً وہ واجب الادا نہیں، اس لیے انٹرسٹ کی رقم کو دین مان کر وہ مقدار کم نہیں کی جائے گی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١۵/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ