صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #645 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کسی کو قیوم اول یا قیوم جہاں کہنے لکھنے والا کا حکم ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 11,787

سوال (Question):

کسی کو قیوم اول یا قیوم جہاں کہنے لکھنے والا کا حکم ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی کو قیوم اول یا قیوم جہاں کہنے لکھنے والا کا حکم ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ مجددالف ثانی شیخ احمد سر ہندی علیہ الرحمۃ و الرضوان کو زیدنے اپنے شجرہ میں قیوم اول اور قیوم زماں لکھا ہے تو اس کےبارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟بینوا وتوجروا جواب: غیرخدا کے متعلق قیوم اول یا قیوم زماں کہنے اور لکھنے والے کو فقہائے اسلام نے کافر قرار دیا ہے جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: فقہائے کرام نے قیوم جہاں غیر خدا کو کہنے پر تکفیر فرمائی، مجمع الانہر میں ہے “اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق جل وعلا نحو القدوس واالقیوم والرحمن وغیرھما یکفر ۱ھ۔ (فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ 196 ) کتبہ :مفتی جلال الدین احمد امجدی ۲شوال المکرم ۱۴۴۸ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat