بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-645 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کو قیوم اول یا قیوم جہاں کہنے لکھنے والا کا حکم ؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ مجددالف ثانی شیخ احمد سر ہندی علیہ الرحمۃ و الرضوان کو زیدنے اپنے شجرہ میں قیوم اول اور قیوم زماں لکھا ہے تو اس کےبارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟بینوا وتوجروا جواب: غیرخدا کے متعلق قیوم اول یا قیوم زماں کہنے اور لکھنے والے کو فقہائے اسلام نے کافر قرار دیا ہے جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: فقہائے کرام نے قیوم جہاں غیر خدا کو کہنے پر تکفیر فرمائی، مجمع الانہر میں ہے "اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق جل وعلا نحو القدوس واالقیوم والرحمن وغیرھما یکفر ۱ھ۔ (فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ 196 ) کتبہ :مفتی جلال الدین احمد امجدی ۲شوال المکرم ۱۴۴۸ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ