بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2493 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کو خون دینا جائز ہے یا نہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی
سوال : کسی کو خون دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس میں مسلمان ہونے کی قید ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسی کوئی قید نہیں ہے، جان بچانے کے لیے بلا عوض خون دینا اور حاجت مند کو خون لینا دونوں جائز ہے ۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں ،کہ جان بچانے کے لیے خون دینا لینا باب علاج سے ہے اور علاج سب کا جائز ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ