لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کسی کو خون دینا جائز ہے یا نہیں؟ / کسی غیر مسلم کو خون دینا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی کو خون دینا جائز ہے یا نہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

سوال : کسی کو خون دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس میں مسلمان ہونے کی قید ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسی کوئی قید نہیں ہے، جان بچانے کے لیے بلا عوض خون دینا اور حاجت مند کو خون لینا دونوں جائز ہے ۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں ،کہ جان بچانے کے لیے خون دینا لینا باب علاج سے ہے اور علاج سب کا جائز ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات