دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #446
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
میسج (SMS) یا واٹس ایپ پر طلاق دینے کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
11
سوال (Question):
اگر شوہر غصے میں موبائل پر لکھ کر طلاق کا میسج بھیج دے، تو کیا طلاق ہو جائے گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق کے واقع ہونے کے لیے زبانی بولنا شرط نہیں، تحریری طلاق بھی شرعاً معتبر ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ میسج شوہر ہی نے اپنے ارادے سے ٹائپ کر کے سینڈ کیا ہے اور الفاظ صریح ہیں (جیسے میں تجھے طلاق دیتا ہوں)، تو میسج سینڈ کرتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی، خواہ بیوی نے میسج پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat