دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #532
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بینک میں فکسڈ ڈپازٹ (Fixed Deposit) کا منافع
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
4,825
سوال (Question):
کیا عام بینکوں میں پیسے فکس کروا کر ہر مہینے جو منافع ملتا ہے وہ حلال ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کمرشل بینکوں (روایتی بینکوں) میں فکسڈ ڈپازٹ یا سیونگ اکاؤنٹ کھلوا کر اس پر جو پہلے سے طے شدہ منافع (Fixed Interest) ملتا ہے وہ خالصتاً اور قطعی طور پر ‘سود’ ہے اور اس کا استعمال حرام ہے۔ اسلام میں تجارت میں نفع و نقصان دونوں کی شراکت ہوتی ہے، جبکہ بینک صرف نفع کی گارنٹی دیتا ہے۔ البتہ مستند اسلامی بینکوں میں شرعی اصولوں (مضاربہ/مشارکہ) کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat