بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1958 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ نیاز احمد نے اپنی مدخولہ بیوی کے متعلق ہندی میں دو طلاق لکھوا کر ایک شخص کے سپرد کیا ۔ پھر اس کاغذ پر نیاز احمد کی اجازت کے بغیر ایک آدمی نے اپنی طبیعت سے ایک طلاق اور بڑھا کر تین طلاق کردیا تو اس صورت میں نیازاحمد کی بیوی پر کتنی طلاق پڑی ؟ نیاز احمد اپنی بیوی کو پھر رکھنا چاہتا ہے ۔ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں نیاز احمد کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوئی۔ یعنی عدت کے اندر نیاز احمد اگر کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رات کر لی یا اس سے میاں بیوی جیسا برتاؤ کر لے تو وہ حسب سابق اس کی بیوی رہے گی نکاح کی حاجت نہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے : الطلاق مرتن فامساك بمعروف أو تسريح بإحسان.” (٢ع١٣)اور اگر عدت گزر گئی ہو تو عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ والله تعالى اعلم. كتبه: جلال الدين احمد الامجدي.
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ