بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1762 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی فقیرکو زکوۃ نذرانہ وتحفہ وغیرہ کہہ کر دی تو ادا ہوگی یا نہیں؟
سوال:- اگر مال زکات زكات کی نیت سے دیا مگر زبان سے نذرانہ وتحفہ وغیرہ لفظ استعمال کیا تو کیا حکم ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب زکوۃ دینے میں یہ ضروری نہیں کہ فقیر کو زکات کہہ کر دی جائے بلکہ صرف زکات کی نیت کافی ہے یہاں تک کہ فقیر کو اگر ہبہ یا قرض یا نذرانہ وتحفہ کہہ کر مال زکوۃ دیا اور نیت زکوۃ کی ہو ادا ہوگئی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "ومن أعطي مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فانها تجزيه وهو الأصح هكذا فى البحر الرائق”(ج ۱ ص ۱۷۱) اور رد المحتار میں ہے "فلو سماها هبة أو قرضا تجزيه فى الأصح”(ج ۳ ص ۱۸۷) اور فتاوی رضویہ میں ہے "اگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنھیں زکوۃ دی جاسکتی ہے کچھ روپیہ عیدی کا نام کرکے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس کے دل میں یہ نیت تھی میں زکات دیتا ہوں بلاشبہ ادا ہوجائے گی”(ج ۱۰ ص ۶۷ مترجم) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح ۔ محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ