لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کسی صحابی کی صحابیت کے منکر کا کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی صحابی کی صحابیت کے منکر کا کیا حکم ہے؟

سوال:- کسی صحابی کی صحابیت کا منکر کیا ہے؟ الجواب بعون الملك الوهاب: جن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی صحابیت نص سے ثابت ہے ان کی صحابیت کا منکر کافر ہے جیسے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کہ ان کی صحابیت نص(اذ یقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا)سے ثابت ہے اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین جن کی صحابیت نص سے ثابت نہیں ان کی صحابیت کا منکر کافرتو نہیں البتہ گمراہ ضرور ہے ۔ شرح فقہ اکبر میں ہے "فقد أجعوا على ان من انكر صحبة ابى بكر الصديق كفر بخلاف انكار صحبة غيره لورود النص فى حقه”(ص 115) اور فتاوی علیمیہ میں ہے "جن کی صحابیت نص سے ثابت ہے ان کی صحابیت کا انکار کفر ہے،اور ان کے علاوہ کی صحابیت کا انکار کفر تو نہیں مگر گمراہی ضرور ہے”(ج2 ص289) اور فقہائے کرام کے اصح قول کے مطابق جس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا منکر کافر ہے یونہی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا منکر بھی کافر ہے ۔ مجمع الأنهر شرح ملتقی الأبحر میں ہے ۔ "يكفر بانكاره صحبة ابى بكر رضى الله تعالى عنه وبانكاره امامته على الاصح وبانكاره صحبة عمر رضى الله تعالى عنه على الاصح”(ج2 ص 507) والله تعالى اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحيح والمجيب نجيح محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات