لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کسی بزرگ کے نام میں انصاری لکھنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی بزرگ کے نام میں انصاری لکھنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے فحول و مفتیان ذوی العقول مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی سنی بزرگ عالم دین کو اس وقت میں انصاری لکھنا یا کہنا کیسا ہے جب کہ معاشرے وعرف میں معیوب سمجھا جاتا ہے اگر زید ایسے میں کسی بزرگ کو یا عالم کو انصاری لکھے یا کہے تو اس پر کیا حکم شرع ہے مطلع فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــــ ہندوپاک میں ” انصار” ذات برادری کی ایک قسم ہے جو عرفا مسلم بنکروں کے ساتھ خاص ہے خواہ وہ فی الحال بنائی کا کام کرتے ہو، یا پہلے کبھی ان کے آبا و اجداد میں یہ پیشہ رہا ہو ، کسی غرض صحیح کے لیے ان کی ذات برادری کی تعیین درکار ہو تو علما غیر علما سب کے نام کے ساتھ” انصاری” لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ عرفا انصاری ہونا، کہنا معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے، بلکہ ” جولاہا” کہنا ، لکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ہاں اگر کسی کی نیت اس لفظ سے عالم کی تحقیر ہو اس وجہ سے وہ گنہگار ہوگا ۔ مگر کسی مسلمان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کی کوئی قرینہ ظاہر ہو ۔ یہاں ایک امر قابل لحاظ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر لوگ انصاری برادری کے ہونے کے باوجود اپنے ناموں کے ساتھ انصاری نہیں لکھتے ۔ تو ان کے نام کے ساتھ اگر کوئی دوسرا شخص یہ لفظ بڑھاتا ہے تو ایک تو یہ بے جوڑ لگتا ۔ دوسرے ممکن ہے کہ کسی کو اس سے تکدر ہو اس لیے عوام و خواص میں سے کسی کے بھی نام کے ساتھ اپنی مرضی سے یہ لفظ نہیں بڑھانا چاہئیے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی نظام الدین رضوی ۔جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات