دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #318
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کرائے کے مکان یا دکان پر زکوٰۃ کا حساب
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
12,957
سوال (Question):
اگر میں نے مکان یا دکان کرائے پر دی ہوئی ہے تو زکوٰۃ مکان کی مالیت پر ہو گی یا کرائے پر؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جو پراپرٹی (مکان، دکان، فلیٹ) کرائے پر دینے کے لیے خریدی گئی ہو، اس کی اصل مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ البتہ اس سے آنے والا کرایہ جب وصول ہو جائے اور دیگر مال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچے تو اس کرائے کی رقم پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat