بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-61 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عام کریڈٹ کارڈ کا معاہدہ سودی شرائط پر مبنی ہوتا ہے کہ تاخیر پر سود یا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ شریعت میں سودی معاہدہ کرنا (خواہ سود دینا پڑے یا نہیں) بذاتِ خود ناجائز اور گناہ ہے۔ اس لیے عام روایتی کریڈٹ کارڈ بنوانا اور استعمال کرنا جائز نہیں۔ البتہ ڈیبٹ کارڈ (Debit Card) جس میں اپنی رقم استعمال ہوتی ہے، جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ