لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کرتے یا شرٹ کے بٹن کو کھول کر نماز پڑھا تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کرتے یا شرٹ کے بٹن کو کھول کر نماز پڑھا تو کیا حکم ہے ؟

سوال : زید نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ اس کے کرتے کا اوپر والا بٹن کھلا ہوا تھا تو اس میں کوئی شرعی قباحت ہے یا نہیں؟ مطلع فرمائیں. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں کرتے کا بٹن کھلا رہنے کی چند صورتیں ہیں یا تو کرتے کے اوپر یا نیچے کوئی دوسرا کپڑا مثلا صدری شیروانی یا بنیان وغیرہ پہنے ہوئے تھا ایسی صورت میں اگر اوپر یا نیچے والے دوسرے کپڑے کی وجہ سے سینہ ڈھکا ہوا تھا تو کرتے کے بٹن کا کھلنا نماز میں کوئی ضرر نہیں پہنچاے گا ۔ اور اگر کرتے کے اوپر یا نیچے دوسرا کپڑا نہیں تھا جس سے سینہ ڈھکا رہے اس صورت میں یا تو صرف اوپر والا بٹن کھلا ہوا تھا یا اس کے ساتھ نیچے والا بھی . الحاصل اگر بٹن اس طرح کھلے ہوئے تھے (خواہ ایک ہی یا زیادہ) جس سے سینہ ظاہر ہے تو نماز قطعاً مکروہ تحریمی ہو گی. اور اگر صرف اوپر کا بٹن اس طرح کھلا ہوا ہے جس سے صرف گلے کے پاس کا خفیف حصہ نظر آرہا ہے تو کوئی حرج نہیں. یہ احکام فتاوی رضویہ جلد ثالث صفحہ 447 کی مندرجہ ذیل عبارت سے ماخوذ ہیں. ” اور کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب حفیف الحرکات سمجھا جائے یہ بھی مکروہ ہے ۔ جیسے انگرکھا پہنا اور گھنڈی یا باہر کے بند نہ لگانا یا ایسا کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بٹن اتنے لگانا کہ سینہ یا شانہ کھلا رہے جبکہ اوپر سے انگر کھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے ۔ اور اگر اوپر سے انگر کھا ہے یا اتنے بٹن لگائے کہ سینہ یا شانہ ڈھک گئے اگرچہ اوپر کا بٹن نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلا رہا تو حرج نہیں. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــــہ : مفتی محمد قدرت اللہ الرضوی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 373

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات