صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #688 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کربلا بغداد اور اجمیر کی جے ہو کہنا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 6,964

سوال (Question):

کربلا بغداد اور اجمیر کی جے ہو کہنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کربلا بغداد اور اجمیر کی جے ہو کہنا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ اگر کوئی نعت خواں یا شاعر حضرات اپنے کلام میں پڑھیں کربلا بغداد اور اجمیر کی جے ہو وغیرہ وغیرہ تو کیا یہ سب الفاظ منقبت میں درست ہیں یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کرم بالائے کرم ہوگا۔ ایک شعر یہ ہے माता बतूल और पिता जिसका अली है, फ़िरदौस के महराज की जागीर की जय हो المستفتی: محمد حامد رضا خطیب و امام سنی حسینی جامع مسجد دھرسیواں رائےپور چھتیس گڑھ انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب -بعون الملک الوھاب

کربلا بغداد اور اجمیر یا کسی اللہ والے یا کسی عام مسلمان کی جے بولنا منع ہے کہ یہ طریقہ کفار ہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: “من تشبه بقوم فهو منهم” (سنن ابي داؤد ، كتاب اللباس، باب في لبس الشهرة ، رقم: ٤٠٣١) یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔ اور اعلی حضرت امام احمدرضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: “مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے۔ “اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١٥، ص٢٦٨، کتاب السیر، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ١٧صفر المظفر ١٤٤٥ھ مطابق ٤ اکتوبر ٢٠٢٣ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat